مسکن / آج کے کالمز / ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ —-ام محمد سلمان

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ —-ام محمد سلمان

تحریر:ام محمد سلمان

ارے دیکھو تو سہی کس قدر بے حیائی ہے. پلے کارڈز پر کیسی کیسی باتیں لکھی ہیں ایک شریف انسان انہیں اپنے منہ سے دہرا بھی نہیں سکتا ۔

شہلا ٹی وی کے سامنے بیٹھی خواتین مارچ پر تبصرہ کررہی تھی… ٹی وی پر بھی کچھ دانشور بیٹھے، مارچ کو لے کر اپنے اپنے نظریات کا پرچار کررہے تھے ۔

شہلا بھی پروگرام دیکھتے ہوئے اپنے طور پر اظہار خیال کررہی تھی.. توبہ ہے بھئی کیسی کیسی باتیں ہیں۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے شوہر اور باپ، بھائی اتنے اچھے ہیں کہ ہماری ہر ضرورت کا خیال کرتے ہیں، ہمیں تحفظ دیتے ہیں، عزت دیتے ہیں ۔

لاؤنج کی ڈسٹنگ کرتی ملازمہ “نازی” بھی شہلا باجی کی باتوں کی طرف متوجہ ہو گئی… چار دن سے وہ بھی ہر گھر میں اسی طرح کے تبصرے سن رہی تھی۔ آخر کار بول ہی پڑی… شہلا باجی! ایک بات کہوں اگر آپ برا نہ مانیں تو…؟

ہاں ہاں ضرور کہو نازی.. کیا بات ہے؟ شہلا اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔

باجی! آپ بہت اچھی ہیں یہاں اس علاقے کی ساری خواتین بہت اچھی ہیں بہت عیش میں زندگی گزار رہی ہیں ۔ گھر کے آدھے کام ملازمائیں کر جاتی ہیں ۔ اس لیے آپ لوگوں کو ایسا لگتا ہے دنیا کی ہر عورت آپ کی طرح سکھی ہے ۔

نہیں بی بی جی! نہیں… ایسا نہیں ہے ۔ ہم سے پوچھیے ہم رات دن مردوں کی زیادتیاں سہتے ہیں ۔

ان عورتوں نے جو بینرز اٹھا رکھے ہیں ناں.. یہ ہمارے مسائل نہیں ہیں ۔ ہمیں آدھی رات کو بھی اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے دینے میں کوئی اعتراض نہیں مگر.. گھر میں کھانا تو ہو…

ہم تو خود ہی کما کما کے ہلکان ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ کھانا گرم کرنا نہیں شہلا بی بی! ہمارا تو مسئلہ ہی “کھانا” ہے۔ ہمیں کھانا ملے تو سہی۔ شوہر کما کے تو لائیں گھر میں ۔ ہم تو اپنی بنیادی ضروریات کو بھی ترستے ہیں ۔

اور یہ عورتیں جو کہہ رہی ہیں ناں کہ ہم بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں… یہ بھی ہم عورتوں کا مسئلہ نہیں ہے ۔ قدرت نے یہ کام ہمارے ذمے لگایا ہے تو ہم ہی کریں گے… ہمارا اصل مسئلہ تو ان بچوں کی پرورش اور تربیت ہے۔ ہمارے بچے گلی کوچوں میں آوارہ پھرتے ہیں، ان کی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ تعلیم ہم غریبوں کا بھی حق ہے جس سے ہم محروم ہیں، یہ ہے ہمارا مسئلہ ۔

اور ہمارا مسئلہ مردوں سے آزادی حاصل کرنا نہیں ہے، مرد کے بغیر بھی عورت کی کوئی زندگی ہے بھلا…؟ بلکہ ہم تو یہ چاہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے مرد ہونے کے زعم میں گھر میں آتے ہی چیخیں چلائیں نہ.. بات بات پہ ہم پر ہاتھ نہ اٹھائیں، ہمیں تو اس ظلم سے آزادی چاہیے ۔

اور یہ جو پلے کارڈ پہ بستر والی بات لکھی ہے ناں باجی! تو سنیں! یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، میاں بیوی تو ایک دوسرے سے سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، اللہ نے لعنت کی ہے ایسے عورت پہ جو شوہر کی پکار پہ بغیر شرعی عذر کے اس کے پاس آنے سے انکار کرے ۔ مگر جو آج کل مرد بے ہودہ ویڈیوز دیکھ کر ان برے کاموں کا تقاضا اپنی نیک شریف عورتوں سے کرتے ہیں، عورتوں کو اس ظلم سے آزادی چاہیے باجی ۔ یہ ہے آج کے دور کی عورت کا مسئلہ ۔ عورتیں شرم و حیا کی آڑ میں پس رہی ہیں…. میری ایک سہیلی اپنے شوہر کا یہ ظلم سہتے سہتے نفسیاتی مریض بن گئی کیوں کہ وہ کسی سے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی ۔

اور ہم نہیں کہتے ہمارا جسم ہماری مرضی… یہ جسم رب العالمین کا دیا ہوا ہے، اسی کی مرضی پر چلے گا ۔ ہم اگر بے ہودہ کپڑے پہن کر سڑکوں پر نکلیں تو ہمارا قصور ہے باجی… لیکن جب ہم عورتیں برقعے پہن کر بھی باہر نکلتی ہیں تو مردوں کی بھوکی نظریں ہمارے آر پار ہوتی ہیں، یہ ہے ہمارا مسئلہ.. ہمیں ان کاٹتی نظروں سے آزادی چاہیے باجی.. اگرچہ ہر مرد ایسا نہیں ہوتا مگر کچھ ہوتے ہیں جو معاشرے کا ناسور ہیں.. ہمیں ان سے آزادی چاہیے ۔

اور وہ جو یہاں سے پانچویں گھر میں رہتی ہے ناں خالدہ.. اس کا شوہر بہت بیمار ہے۔ علاج کے لیے لاکھوں روپے چاہییں مگر اس کے بھائی، باپ کی جائیداد میں سے اسے کوئی حصہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ بے چاری مر مر کے جی رہی ہے ۔

یہ ہے ہم عورتوں کا مسئلہ.. ہمیں ہمارے باپ کی جائیداد میں سے حصہ کیوں نہیں دیا جاتا؟؟ ہمیں جہیز دے کر ٹال دیا جاتا ہے ۔ بارات کے نام پر برادری کو کھانا کھلا کر وہ پیسے بھی ہمارے کھاتے میں ڈال دیے جاتے ہیں کہ ان کی شادیوں پر بہت خرچہ کر چکے ۔ کیوں بنائے ہیں معاشرے نے یہ دستور.. یہ رسم و رواج…؟ پھر ان رواجوں کی چکی میں ہم عورتیں زندگی بھر پستی ہیں۔ بیٹیاں ذرا قد نکالتی ہیں تو ہم اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کے ان کا جہیز جوڑنا شروع کر دیتی ہیں کیوں کہ اس معاشرے میں کوئی مرد اور کوئی گھرانہ بغیر جہیز کے ہماری بیٹیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ یہ ہے ہمارا مسئلہ ۔

اور پتا ہے شہلا باجی! پچھلی گلی میں سعیدہ باجی کے گھر درس ہوتا ہے ناں تو کبھی کبھی میں بھی وہاں بیٹھ جاتی ہوں.. وہ اتنا خوبصورت نقشہ کھینچتی ہیں اسلامی تعلیمات کا… اتنی خوبصورت باتیں بتاتی ہیں اسلامی دور کی کہ دل مچل مچل جاتا ہے.. کاش اس اسلام کا کوئی نظارہ ہمیں بھی دیکھنے کو مل جائے ۔

مجھے بتائیے باجی! کہاں ہے وہ اسلام جو کتابوں میں ہے اور جو واعظین کی باتوں میں ہے؟ ہم تو ترس گئے اس اسلام کے لیے باجی۔ لاکھوں کروڑوں درود میرے نبی علیہ السلام پر، ہمیں زمین سے اٹھا کر عرش پہ بٹھا گئے مگر ہم نہ جانے کیوں آج بھی ظلم سہنے پر مجبور ہیں ۔

نازی یہ سب کہتے کہتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

شہلا کی بھی آنکھیں بھر آئیں ۔ گلوگیر آواز میں بولی… تم نے یہ ساری باتیں کہاں سے سیکھیں نازی..؟

یہیں سے سیکھی ہیں باجی اسی معاشرے سے.. اور کہاں سے سیکھوں گی؟ بچپن سے لے کر آج تک یہی دیکھتی آرہی ہوں ۔ زبان بند رکھتے ہیں تو کیا ہوا، آنکھیں اور کان تو کھلے ہوتے ہیں ۔ ہمارا بھی دل ہے باجی.. سب کچھ محسوس کرتے ہیں ۔

نازی نے اپنے بہتے آنسو صاف کیے، اور پھر سے اپنے کام میں لگ گئی ۔ شہلا بھی اپنی سوچوں میں گم ہو گئی ۔

بے وقوف نازی… نہ جانے کس کس کا درد لیے پھر رہی تھی سینے میں۔۔۔۔۔ اسے کیا پتا یہ “عورت مارچ” خواتین کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی عوامل کار فرما تھے…….!!

بارے isbuser

یہ بھی چیک کریں

کشمیری بچے نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل کروا دیا

زیدان حامد کا عالمی ریکارڈ کم عمر پروفیسر زیدان حامد کا اعزاز، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔