مسکن / بین الاقوامی / ترک ساحل پر کشتی الٹنے سے 40پناہ گزین ہلاک

ترک ساحل پر کشتی الٹنے سے 40پناہ گزین ہلاک

استنبول(اے این این) ترکی کے ساحل پر کشتی الٹنے سے بچوں سمیت40پناہ گزین ہلاک،60کو بچا لیا گیا،تارکین ترکی کے راستے یونان جا رہے تھے جبکہ مضایا میں مزید16افراد بھوک سے مر گئے، شامی فورسز اور حزب اللہ تحریک کی جانب سے علاقے کا محاصرہ جاری ۔ترکی کے ساحلی محافظوں کہنا ہے کہ ترکی سے یونان جانے والی ایک کشتی بحیر ایجین میں ڈوب گئی ہے جس میں 39 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ساحلی محافظوں کے مطابق ڈوب کر مرنے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔ساحلی محافظوں نے کم از کم 60 افراد کو ترکی کے سمندری حدود میں زندہ بچا لیا ہے۔ حادثے کا شکار افراد یونان کے جزیرے لیسبوس جا رہے تھے۔لیسبوس پناہ کے متلاشیوں میں کافی مقبول مقام ہے۔ ترکی کے حکام کے مطابق 17 میٹر لمبی یہ کشتی ساحل سے نکلتے ہی ایک چٹان سے ٹکرا گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ڈوبنے والے کشتی میں مزید لاشیں ہو سکتی ہیں۔ بچائے جانے والے افراد علاج کیا جا رہا ہے جو ہائیپو تھرمیا کا شکار ہو گئے ہیں۔ایک ترک باشندے کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انسانی سمگلر ہیں۔اس کشتی پر سوار افراد میں شام، میانمار اور افغانستان کے باشندے شامل تھے۔مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ کشتی کے متعدد حادثوں کے باوجود یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہزاروں افراد ترکی سے یونان کا خطرناک سمندر سفر کر رہے ہیں۔تارکینِ وطن کے لیے عالمی تنظیم آئی او ایم نے جمعے کو کہا تھا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک کم سے کم 244 پناہ گزین بحیر روم میں ڈوب چکے ہیں جبکہ 55568 ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔اس وقت یہاں پہنچنے والے افراد کی یومیہ تعداد دو سال قبل جنوری کے پورے ماہ میں آنے والے افراد کے برابر ہے۔کچھ روز قبل ہی ایسے ہی ایک حادثے میں کم سے کم 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ادھر فلاحی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے مضایا میں اقوامِ متحدہ کا امدادی قافلے پہنچنے کے بعد بھی کم سے کم 16 افراد بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ مزید 33 افراد ایسے ہیں جن کی حالت خطرے میں ہے۔ایم ایس ایف کی کارروائیوں سے متعلق ڈائریکٹر برِس دی لا وینے کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نا قابلِ قبول ہے۔ لوگوں کو ہفتوں پہلے وہاں سے منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ایم ایس ایف کے مطابق گذشتہ برس اس قصبے میں فاقہ کشی کے باعث 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔جنوری کے اوائل میں اس وقت دواں اور خوراک کے دو ہنگامی امدادی قافلے مضایا روانہ کییگئے جب یہ علم ہوا کہ 40 ہزار لوگ انتہائی ہولناک حالت میں ہیں۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جو شام کے تنازع پر جنیوا میں مذاکرات ختم ہونے کو ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے کم سے کم 15 مقامات پر کم سے کم چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ یہ علاقے حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں دونوں ہی کے محاصرے میں ہیں۔جنوری کے اوائل میں اس وقت دواں اور خوراک کے دو ہنگامی امدادی قافلے مضایا روانہ کیے گئے جب یہ علم ہوا کے 40 ہزار لوگ انتہائی ہولناک حالت میں ہیں

بارے isbuser

یہ بھی چیک کریں

کشمیری بچے نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل کروا دیا

زیدان حامد کا عالمی ریکارڈ کم عمر پروفیسر زیدان حامد کا اعزاز، …