مسکن / آج کے کالمز / اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کو خط لکھا ہے۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پروزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ایک اور خط لکھا ہے۔ خط میں اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری کے لئے مشاورت سے متعلق شہباز شریف کے الزامات مسترد کردیئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے خط میں موقف اختیارکیا گیا کہ سیکرٹری نے میری ہدایت پرہی آپ کو خط لکھا تھا، میرے سیکرٹری کی طرف سے لکھا گیا خط بھی آئین کی روح کے منافی نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کے تقررسے متعلق مشاورت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، 26 تاریخ کو لکھے گئے خط کا مقصد بامعنی اور اتفاق رائے سے مشاورتی عمل شروع کرنا تھا، ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ آپ مشاورتی عمل میں حصہ لیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا للہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روزاپوزیشن کے اجلاس میں فوجی عدالتوں پرنہیں بلکہ الیکشن کمیشن ارکان پر کل لاہور میں مشاورت ہوئی، وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ایک اور خط لکھا ہے لیکن اس میں بھی پہلے خط والے ہی نام تجویز کئے گئے ہیں۔ خطوط سے مشاورتی عمل نتیجہ خیزنہیں ہوسکتا کیونکہ سپریم کورٹ مشاورت کی وضاحت کرچکی ہے۔

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کو خط لکھا ہے۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کے معاملے پروزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ایک اور خط لکھا ہے۔ خط میں اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری کے لئے مشاورت سے متعلق شہباز شریف کے الزامات مسترد کردیئے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے خط میں موقف اختیارکیا گیا کہ سیکرٹری نے میری ہدایت پرہی آپ کو خط لکھا تھا، میرے سیکرٹری کی طرف سے لکھا گیا خط بھی آئین کی روح کے منافی نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کے تقررسے متعلق مشاورت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، 26 تاریخ کو لکھے گئے خط کا مقصد بامعنی اور اتفاق رائے سے مشاورتی عمل شروع کرنا تھا، ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ آپ مشاورتی عمل میں حصہ لیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا للہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روزاپوزیشن کے اجلاس میں فوجی عدالتوں پرنہیں بلکہ الیکشن کمیشن ارکان پر کل لاہور میں مشاورت ہوئی، وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ایک اور خط لکھا ہے لیکن اس میں بھی پہلے خط والے ہی نام تجویز کئے گئے ہیں۔ خطوط سے مشاورتی عمل نتیجہ خیزنہیں ہوسکتا کیونکہ سپریم کورٹ مشاورت کی وضاحت کرچکی ہے۔

لاڑکانہ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ملک کے ڈپٹی وزیر اعظم بنے ہوئے ہیں۔

نوڈیرو ہاؤس لاڑکانہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ کے مسائل کا حل کسی ایک فرد کے پاس نہیں بلکہ سب کو مل کر صوبے کے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے، کم وسائل کو صحیح استعمال کرکے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان خود کو نوجوانوں کا لیڈر کہتے ہیں لیکن ملک میں ڈپٹی وزیراعظم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بنے ہوئے ہیں، عمران خان کو نوجوانوں کو آگے لانا چاہیے، عوام دشمن حکومت مزید نہیں چل پائے گی، میں نوجوان ہوں اور نوجوان سیاست کا دور ہے، مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے اچھے رہنما ہیں انہیں ہماری شاگردی میں آجانا چاہیے، اگر وہ ہماری تربیت میں آجائیں تو ملک کے لیے بہتر ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ غریبوں کی کس طرح مدد کریں، موجودہ حکومت ہمارے ہی جاری کردہ پروگرام کا نام تبدیل کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، یہ پروگرام 2010ء میں قائم علی شاہ نے شروع کیا تھا، اب ہم سندھ کی خواتین کو سیاسی طور پر بھی مستحکم کریں گے، آئندہ حلقوں میں خواتین کی اجازت سے ہی امیدوار کو تیر کا نشان الاٹ کیا جائے گا۔

بارے isbuser

یہ بھی چیک کریں

کشمیری بچے نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل کروا دیا

زیدان حامد کا عالمی ریکارڈ کم عمر پروفیسر زیدان حامد کا اعزاز، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔